جنگ آزادی میں علماء کا کردار
تحریر : مفتی محمد آصف اقبال قاسمی
نواب سراج الدولہ اور سلطان ٹیپور کی شہادت ،دار الحکومت دہلی پر انگریزوں کے قبضہ اور شاہ وقت شاہ عالم کے گھٹنا ٹیکنے کے بعد انگریزوں نے اپنی حکومت کو وسعت دینا شروع کیا اور اس راہ میں جو بھی حائل ہونے کی کوشش کرتا اسے راستے سے ہٹانے کے لئے کبھی تو مال دولت اور جاگیر کے حرص میں مبتلا کیا گیا اور کبھی قتل اور قید وبند کی راہ اختیا رکی گئی ۔انگریزوں کے مظالم روز بروز بڑھتے رہے اور سارے امراء ، نواب اور جاگیردار اپنی جھوٹی ریاست کو بچانے کے لئے انگریزوں کے باج گزار بن کررہ گئے اور عوام بے چاری اپنی جان بچانے کے لئے انگریزوں کے خلاف کچھ بولنے کو تیار نہیں تھی ہر طرف ایک مہیب سناٹا چھایا ہوا تھا ۔سکھوں اور مرہٹوں نے انگریزی سامراج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ ایسے وقت میں ایک درویش جس نے زمانے کے اونچ نیچ کو اچھی طرح دیکھا اور پرکھا تھا انگریزی حکومت کے خلاف جہاد اور ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا فتویٰ دیا وہ جرأت وہمت کا پتلا اور شجاعت ومردانگی کا بے مثال فرد جسے ہم شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے نام سے جانتےہیں انہوں نے نہایت جرأت کے ساتھ انگریزی فوج کے خلاف فتویٰ جاری کیا ۔یہی فتویٰ ہندوستان کی جد وجہد آزادی کا نقطۂ آغاز ہے جس نے پورے ہندوستان میں آگ لگادی اور ہندوستان کا ہر فرد جذبۂ حریت اورآزادی کا شوق لے کر کھڑا ہوگیا۔
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کا فتویٰ 1822 ء کے لگ بھگ سامنے آیا یہ فتویٰ فارسی زبان میں ہے اس میں یہ اعلان تھا کہ پورے برصغیر پر نصارٰی کا غلبہ ہو گیا ہے اور ہمارے قوانین منسوخ کر کے انھوں نے اپنے قوانین نافذ کر دیے ہیں، اس لیے یہ ملک دارالحرب ہے اور جہاد فرض ہو گیا ہے۔ اسی فتوے کی بنیاد پر بالا کوٹ کی جنگ لڑی گئی، بنگال میں حاجی شریعت اللہؒ اور تیتومیرؒ نے جنگ لڑی، جنوبی پنجاب میں سردار احمد خان شہیدؒ نے جنگ لڑی، سرحدی علاقہ میں حاجی صاحب ترنگ زئیؒ اور فقیر ایپیؒ نے جنگ لڑی، بیسیوں جنگیں ہوئیں۔ وہی جنگیں جب آگے بڑھیں تو پھر حضرت شیخ الہندؒ کے زمانے میں آخری جنگ کا منصوبہ ’’تحریکِ ریشمی رومال‘‘ کے عنوان سے بنایا گیا جو ناکام ہوئی، اس کے بعد ہم عسکری جنگ سے سیاست کی طرف منتقل ہوئے۔
اس فتوے کے بعدشاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے دو شاگر ایک سید احمد شہید رائے بریلی اور دوسرے شاہ اسماعیل شہید نے پورے ملک میں آزادی کی لہر پید اکی اور انگریزی حکومت کے خلاف جہاد پر بیعت کیا اور نوجوانوں کی ایک جماعت تیار کرکے انگریزوں سے جنگ شروع کردی۔آزادی کے متوالوں کے لئے ایک ایسے مرکز کی ضرورت تھی جہاں سب کی تربیت کا انتظام ہوسکے اور جدو جہد آزادی کی تحریک کو فروغ دیا جاسکے اس کے لئے مجاہدین آزادی نے پشاور کے علاقہ کو منتخب کیا اس وقت لاہور میں سکھ حکومت تھی اور پشاور اسی کی عملداری میں تھا لہذا پشاور کوحاصل کرنے کے لئے سکھ حکومت سے جنگ لڑنی پڑی اور بالآخر طویل جنگوں کے بعد 1830ء میں پشاور پر قبضہ کرلیا گیا لیکن انگریزی حکومت کو احساس ہوگیا کہ یہ لوگ پورے ہندوستان میں آزادی کی جنگ چھیڑنا چاہتے ہیں اس لئے انہیں پشاور سے نکالنے کی کوشش کی گئی ۔ انگریزوں نے مختلف ہتھکنڈوں کا استعمال کرکے علاقائی سرداروں کو مجاہدین آزادی کے خلاف بھڑکا دیا جس کی وجہ سے اس جماعت کاپشاور میں رہنا مشکل ہوگیا لہٰذا باہمی مشورے سے پشاور کے بجائے مظفر آبادکو مرکز بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس کے لئے بالاکوٹ کے پہاڑی راستے سے جانے کا فیصلہ ہو ا لیکن سکھ فوجو ں نے ان کاپیچھا نہیں چھوڑا اور راستے میں انہیں گھیرلیا 6 مئی 1831 ء کو بالاکوٹ میں ایک خون ریز جنگ ہوئی جس میں سید احمد شہید ، شاہ اسماعیل شہید اور ان کے رفقاء نے جام شہادت نوش کیا ۔ شاہ عبد العزیز کے فتویٰ کے بعد یہ پہلی جنگ آزادی تھی ۔ اگرچہ اس سے پہلے نواب سراج الدولہ اور شیر میسور سلطان ٹیپو نے انگریزوں کے خلاف زبردست جنگیں لڑکر جام شہادت نوش کیا تھا۔لیکن یہ جنگیں اس وقت کی ہیں جب انگریزوں نے باضابطہ طور پر ہندوستان میں اپنی حکومت کا اعلان نہیں کیا تھا۔
بالاکوٹ میں سید احمد صاحب کی شہادت کے بعد بھی یہ تحریک رکی نہیں ، بلکہ بالاکوٹ کی جنگ میں سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید کی شہادت کے بعد علماء کرام نے جنگ آزادی کو آگے بڑھایا اور ملک کے کونے کونے سے جس کی تحریک شاہ عبد العزیز کے فتوے کے بعد ہی شروع ہوگئی تھی مجاہدین آزادی سر پرکفن باندھ کر میدان میں اتر آئے اس وقت علماء کرام نے جگہ جگہ آزادی کی شمعیں جلائیں ۔ اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ قوم کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔بالاکوٹ کے سانحہ اور سید احمد شہید کے ساتھ بڑی تعداد میں مجاہدین آزادی کی شہادت کے لوگ افسردہ ضرور ہوئے لیکن جنگ آزادی کو جاری رکھنے کے لئے شیخ محمد پھلتی کو امیر بنایا گیا جو سید صاحب کے رفیق خاص تھے ان کےبعد مولانا نصیر الدین منگلوری اور ان کے بعد مولانا نصیرالدین دہلوی کو امیر بنایا گیا ۔( جب ایمان کی باد بہاری چلی ۔ ص 276)
اس سلسلہ میں علمائے صادق پور کا جذبۂ حریت آزادی ہند کی تاریخ کاایک تابناک باب ہے جسے کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ مولانا ولایت علی جو سید احمد شہید کے متوسلین خاص میں سے تھے صادق پور پٹنہ کے رہنے والے تھے انہوں نے ابتداء ہی سے صادق پور پٹنہ کو مجاہدین آزادی کا مرکز بنا لیا تھا۔وہ سید احمد شہید کے ساتھ بالاکوٹ کے محاذ پر بھی گئے تھے لیکن سید صاحب نے انہیں حیدر آباد روانہ کردیاتھا جس کی وجہ سے وہ بالاکوٹ کی جنگ آزادی میں شریک نہیں ہوسکے اور سید صاحب کی شہادت کے بعد اس تحریک کو آگے بڑھانے میں نمایا ں کردار اداکیا ۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی مولانا ولایت علی اور مولانا عنایت علی کی کی تحریک آزادی کے بارے میں اس طرح لکھتے ہیں:
” یہ پوری تاریخ مہم جوئیوں اور قربانیوں اور ایسے حوادث و مصائب اور ایذا رسانی و بربریت کی داستان ہے، جس کو سن کر رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، یہ مسلسل جنگوں اور معرکہ آرائیوں کا سلسلہ تھا۔ جو قتل و غارت گری ، املاک و جائیداد کی ضبطی ، طویل مقدمات ، جلا وطنی اور اخراج اور ایسی تحقیق و تفتیش پر مشتمل تھا جو قرون وسطی میں یورپ کی عدالتوں کے ساتھ مخصوص تھا اگر جاں نثاری ، ایثار و قربانی اور ہمت و جوانمردی کے وہ سارے کارنامے جو اس ملک کے جہاد حریت اور قومی آزادی کی تاریخ سے متعلق ہیں ۔ ایک پلڑہ پر رکھے جائیں اوراہل صادق پور ( خاندان مولانا ولایت علی عظیم آبادی ) کے کارنامے اور قر بانیاں ایک پلرہ میں تو آخر الذکر کا پلڑہ نمایاں طو ر پر بھاری ہوگا۔” (جب ایمان کی بہار آئی۔ ص۔278)
مولانا ولایت علی کے بعد ان کےبھائی مولانا عنایت علی عظیم آبادی نے اس تحریک کی باگ ڈور سنبھالی اور ملک کو آزاد کرانے کے لئے تن من دھن کی بازی لگادی ۔سید احمد شہید نے مولانا عنایت علی کو بنگال میں تحریک کو زندہ کرنے کے بھیجا تھا اور انہوں نے اس تحریک کے ذریعہ بنگال میں جذبۂ حریت کی روح پھونک دی ۔ اس تحریک میں علماء صادق پور کی قربانیاں بھلائی نہیں جاسکتیں جن میں مولانا عنایت علی صادق پوری، مولانا ولایت علی صادق پوری، مولانا عبداللہ صادق پوری، مولانا عبدالکریم عظیم آبادی، مولانا نعمت اللہ ، مولانا احمد اللہ صادق پوری، مولانا عبدالرحیم صادق پوری، مولانا جعفر تھانیسری کے نام آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اس تحریک کے بارے میں لکھا ہے:
” اس تحریک نے بنگال میں شجاعت و بہادری ، اسلامی جوش ، دینی حمیت، زندگی کی بے وقتی ، روح سپہ گری ، راہ خدا میں شہادت کا شوق ، اسلامی اتحاد کاجذبہ ، اور اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت پراپنی مصلحت کو قربان کردینے کاحوصلہ ، اور اصولوں پرثابت قدم رہنے کی طاقت پید اکردی تھی اور اس پرسکون اور امن پسند قوم کوجوشہسواری وسپہ گری اورجہاد وقتال کےمیدان سے بہت دور تھی ، ایک جنگو اور بہادر قوم بنادیا ۔ اور بعض انگریز جنرلوں کونہ صرف یہ اعتراف کرنا پڑ اکہ بنگالی مجاہد شجاعت وبہادری میں افغان سے کسی طرح کم نہ تھا ۔ بلکہ قوت برداشت اور ضرب کاری میں بعض وقت ان سے آگے تھا ، خفیہ پولیس ، سی ، آئی ، ڈی اپنی مسلسل دھمکیوں اور دہشت انگیزی کے باوجود ان بنگالیوں اور ان کی نازک اور دشووار مہم میں حائل نہ ہو سکی ( جب ایمان کی باد بہاری چلی ص279)
مولانا ولایت علی کے خاندان میں جتنے افراد پید اہوئے سب نے جنگ آزادی میں نمایا کردا ادا کیا اور اس کے لئے قید وبند کی صعوبتیں جھیلیں مولانا حکیم عبد الخبیر ہندوستان کے مشہورِ عالم دین تھے۔ مولانا عبد الخبیر کے دادا مولانا احمد اللہ اور نانا مولاناعبد الرحیم کو انگریزوں نے کالا پانی کی سزا دی تھی۔ مولانا احمد للہ نے کالا پانی ہی میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے ۔ مولانا عبد الرحیم اپنی سزا بھگت کر 18 سال بعد رہا ہوئے اور پٹنہ واپس آئے۔ واپس آکر انہوں نے اپنی وہی رَوش دوبارہ اختیار کی اور بالاتفاق تحریک جہاد اندرون ہند کی ذمہ داریاں سنبھالنے لگے۔ 1924ء میں مولانا عبد الرحیم کی وفات ہوئی انہوں نے اپنے نواسے مولانا عبد الخبیر کو اپنا جانشین بنایا۔مولانا عبد الخبیر مشہور مجاہد آزادی تھے۔ اخلاص و للّٰہیت میں اپنے آباء کے وارث تھے۔ تقسیم ہند کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو اور مولانا ابو الکلام آزاد پٹنہ میں ان کے مطب میں ان سے ملنے آئے۔ گاندھی جی نے مولانا سے کہا کہ آپ کے آباء و اجداد نے جو قربانیاں دی ہیں وہ نا قابلِ فراموش ہیں ان کا صلہ تو نہیں دیا جا سکتا مگر یہ ایک لاکھ روپے کی رقم ، آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں اسے قبول کیجیے۔ مولانا کا کمالِ استغنا ملاحظہ کیجیے کہ انہوں نے یہ رقم واپس کر دی اور کہا کہ ہمارے آباء و اجداد نے یہ قربانیاں اللہ کی رضا کی خاطر دی تھیں اس لیے میں ان قربانیوں کا کوئی بھی معاوضہ نہیں لے سکتا۔ ایسی بے غرضی و للّٰہیت یقیناً ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے۔ ( میگزین الواقعۃ۔ شمارہ 46 ربیع الاول 1437ھ۔از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی)
تحریک آزادی کے بنیادی مرکز صادق پور کے بارے میں مولانا سلمان منصور پوری نے ”تحریک آزادی میں مسلم عوام اور علما ء کے کردار“ میں لکھا ہے:
” پٹنہ میں مولانا ولایت علی صاحب کی ہجرت فرمانے کے بعد مولانا فرحت حسین صاحب نگرانی کررہے تھے ۔ لیکن 1858ء میں ان کی وفات ہوگئی تومولانا یحیٰ علی صاحب نے نگرانی کاکام اپنے ذمہ میں لے لیا ۔ مگر 1864ء میں مولانا یحیٰ علی صاحب کو ایک بڑی جماعت کےساتھ گرفتار کرکے جزیرہ انڈمان بھیج دیا پھر جو بھی اس مرکز کانگراں بنا اسے انگریز نے ا نڈمان بھیج دیا تاآنکہ 1868 ء میں مولانا مبارک علی صاحب کی گرفتاری اور پھر وفات پر یہ مرکزی نظام مختل ہوگیا اور سرحد کے مجاہدین سے بھی اس کارابطہ برقرار نہ رہ سکا ۔ اس طرح سرحدی تحریک صرف اپنے علاقہ میں سمٹ کررہ گئی تاہم اس تحریک سےجوجذبات حریت آزاد قبائل میں پید ا ہوگئے تھے وہ بعد کی تحریکات میں معاون ثابت ہوئے چنانچہ تحریک شیخ الہند کامرکز بھی اسی علاقہ کو بنایا گیا ۔اور 1947 ء تک کسی نہ کسی انداز میں وہاںانگریزوں سے چھاپہ مار جنگ جاری رہی اور اندرون ملک سےانہیں مالیہ وغیرہ کی فراہمی کی جاتی رہی۔“(ص 45)
اس طرح یہ کارواں اس شعرکا مصداق بن گیا ۔
میں اکیلا ہی چلاتھا جانب منزل مگر
راہ رو آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
یہ کارواں حادثات ومصائب سے ٹکراتا ہوا آخر کا اپنی منزل مقصود تک پہنچ گیا۔
اس مضمون میں انیسویں صدی کی تحریک آزادی کو مرکز نظر بناکر کچھ خامہ فرسائی کی کوشش کی گئی ہے ۔ بیسویں صدی میں علماء کرام کی قربانیوں اور جدو جہد کو آئندہ کسی مضمون میں واضح کرنی کی کوشش کی جائے گی۔
