انگریزی سامراج کے سامنے آہنی دیوار
سلطنت خداداد میسور
تحریر : مفتی محمد آصف اقبال قاسمی
جس زمانے میں بنگال اور شمالی ہند میں انگریز اپنا تسلط بڑھا رہے تھے، جنوبی ہند میں دو ایسی شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے انگریزوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکےاور پوری زندگی انگریزوں کے خلاف ایسی جنگی لڑیں کے ان کے دانت کھٹے ہوگئے۔ جن کے نام تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ سلطان حیدر علی اور ٹیپوسلطان تھے۔ بنگال اور شمالی ہند میں انگریزوں کو بنگال کی طرف سے کسی سخت مقابلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان کی منظم افواج اور برتر اسلحے کے آگے کوئی نہ ٹھہر سکا لیکن جنوبی ہند میں یہ صورت نہیں تھی۔ یہاں حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے قدم قدم انگریزوں کی جارحانہ کارروائیوں کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے بے مثل سیاسی قابلیت اور تدبر کا ثبوت دیا اور میدان جنگ میں کئی بار انگریزوں کو شکستیں دیں۔ انہوں نے جو مملکت قائم کی اس کو تاریخ میں سلطنت خداداد میسور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سلطان حیدر علی نے 1761ء میں میسور کی سلطنت حاصل کی اور اس کو وسعت دے کر ایک مضبوط سلطنت قائم کی۔ انگریزوں کے خلاف سلطان حیدر علی نے دو جنگیں لڑیں۔ پہلی جنگ میسور1767 تا 1769ء میں حیدر علی نےمدراس کی دیواروں کے نیچے پہنچ کرانگریزوں کو صلح پر مجبور کر دیا۔ دوسری جنگ میسور 1880ء تا 1884ء میں انگریزوں کو کئی بار شکست دی۔ دوسری جنگ میں حیدر علی نے نظام دکن اور مرہٹوںکو ساتھ ملا کر انگریزوں کے خلاف متحدہ محاذ بنایا تھا اور اگر مرہٹے اور نظام ان کے ساتھ غداری نہ کرتے اور عین وقت پر ساتھ نہ چھوڑتے تو کم از کم جنوبی ہند سے حیدر علی انگریزی اقتدار کا خاتمہ کردیتے۔ حیدر علی کی ان کامیابیوں کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس نے فرانسیسیوں کی مدد سے اپنی افواج کو جدید ترین طرز پر منظم کیا اور ان کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کیا۔
ابھی میسور کی دوسری جنگ جاری تھی کہ حیدر علی کا اچانک انتقال ہو گیا۔ آپ کے بعد آپ کے بیٹے فتح علی ٹیپو جانشیں ہوئے۔ ٹیپو سلطان جب تخت نشین ہوئے تو آپ کی عمر 32 سال تھی۔ آپ ایک تجربہ کار سپہ سالار تھے اور والد کے زمانے میں میسور کی تمام لڑائیوں میں شریک رہ چکے تھے۔حیدر علی کے انتقال کے بعد آپ نے تنہا جنگ جاری رکھی کیونکہ مرہٹے اور نظام دکن انگریزوں کی سازش کا شکار ہو کر اتحاد سے علیٰحدہ ہو چکے تھے۔ ٹیپو سلطان نے انگریزوں کو کئی شکستیں دیں اور وہ 1784ء میں سلطان سے صلح کرنے پر مجبور ہو گئے۔
ٹیپوسلطان ایک اچھا سپہ سالار ہونے کے علاوہ ایک مصلح بھی تھے۔ سلطان حیدر علی اَن پڑھ تھے لیکن ٹیپوسلطان ایک پڑھے لکھے اور دیندار انسان تھے۔نماز پابندی سے پڑھتے تھے اورقرآن پاک کی تلاوت آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔ ٹیپو سلطان نے اپنی ریاست کے عوام کی اخلاقی و معاشرتی خرابیاں دور کرنے کے لیے اصلاحات کیں۔ شراب اور نشہ آور چیزوں پر پابندی لگائی اور شادی بیاہ کے موقع پر ہونے والی فضول رسومات بند کرائیں اور پیری مریدی پر بھی پابندی لگائی۔
ٹیپوسلطان نے ریاست سے زمینداریاں بھی ختم کردی تھیں اور زمین کاشتکاروں کو دے دے تھی جس سے کسانوں کو بہت فائدہ پہنچا۔ ٹیپو سلطان نے کوشش کی کہ ہر چیز ریاست میں تیار ہو اور باہر سے منگوانا نہ پڑے۔ اس مقصد کے لیے آپ نے کئی کارخانے قائم کیے۔ جنگی ہتھیار بھی ریاست میں تیار ہونے لگے۔ آپ کے عہد میں ریاست میں پہلی مرتبہ بینک قائم کیے گئے۔
ان اصلاحات میں اگرچہ مفاد پرستوں کو نقصان پہنچا اور بہت سے لوگ سلطان کے خلاف ہو گئے لیکن عوام کی خوشحالی میں اضافہ ہوا اور ترقی کی رفتار تیز ہو گئی۔
ٹیپو سلطان کے تحت میسور کی یہ ترقی انگریزوں کو بہت ناگوار گزری۔ وہ ٹیپو کو جنوبی ہند پر اپنے اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔ انگریزوں اور میسور کے درمیان صلح کو مشکل سے چھ سال ہوئے تھے کہ انگریزوں نے معاہدے کو بالائے طاق رکھ کرنظام حیدر آباد اورمرہٹوں کے ساتھ مل کر میسور پر حملہ کر دیا اور اس طرح میسور کی تیسری جنگ 1790ء تا 1792ء کا آغاز ہوا۔ اس متحدہ قوت کا مقابلہ ٹیپو سلطان کے بس میں نہیں تھا، اس لیے دو سال مقابلہ کرنے کے بعد اس کو صلح کرنے اور اپنی نصف ریاست سے دستبردار ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔
جنگ میں یہ ناکامی ٹیپوسلطان کے لیے بڑی تکلیف دہ ثابت ہوئی آپ نے ہر قسم کا عیش و آرام ترک کر دیا اور اپنی پوری توجہ انگریزوں کے خطرے سے ملک کو نجات دینے کے طریقے اختیار کرنے پر صرف کردی۔ نظام دکن اورمرہٹوں کی طرف سے وہ مایوس ہو چکا تھا اس لیے آپ نے افغانستان ،ایران اور ترکی تک اپنے سفیر بھیجے اور انگریزوں کے خلاف متحدہ اسلامی محاذ بنانا چاہا لیکن افغانستان کے حکمران زمان شاہ کے علاوہ اور کوئی ٹیپو سے تعاون کرنے پر تیار نہ ہوا۔ شاہ افغانستان بھی پشاور سے آگے نہ بڑھ سکا۔ انگریزوں نے ایران کو بھڑکا کر افغانستان پر حملہ کرادیا تھا اس لیے زمان شاہ کو واپس کابل جانا پڑا۔ جبکہ عثمانی سلطان سلیم ثالث مصر سے فرانسیسی فاتح نپولین کا قبضہ ختم کرانے میں برطانیہ کی مدد کے باعث انگریزوں کے خلاف ٹیپو سلطان کی مدد نہ کر سکا۔
انگریزوں نے ٹیپو سلطان کے سامنے امن قائم کرنے کے لیے ایسی شرائط پیش کیں جن کو کوئی باعزت حکمران قبول نہیں کر سکتا تھا۔نواب اودھ اور نظام دکن ان شرائط کو تسلیم کرکے انگریزوں کی بالادستی قبول کر چکے تھے لیکن ٹیپوسلطان نے ان شرائط کو رد کر دیا۔ 1799ء میں انگریزوں نے میسور کی چوتھی جنگ چھیڑ دی۔ اس مرتبہ انگریزی فوج کی کمان لارڈو یلیزلی کر رہا تھا جو بعد میں 1815ء میں واٹر لوکی مشہور جنگ میں نپولین کو شکست دینے کے بعدجنرل ولنگٹن کے نام سے مشہور ہوا۔ اس جنگ میں وزیر اعظم میر صادق اور غلام علی اور دوسرے عہدیداروں کی غداری کی وجہ سے سلطان کو شکست ہوئی اور وہ دار الحکومت سرنگا پٹم کے قلعے کے دروازے کے باہر بہادری سے لڑتے ہوئے 4 مئی 1799ء کو شہید ہو گئے۔ انگریزجنرل ہیرس کو سلطان کی موت کی اطلاع ہوئی تو وہ چیخ اٹھا کہ”اب ہندوستان ہمارا ہے۔“ انگریزوں نے گرجوں کے گھنٹے بجا کر اور مذہبی رسوم ادا کرکے سلطان کی شہادت پر مسرت کا اظہار کیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے ملازمین کو انعام و اکرام سے نوازا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اب ہندوستان میں برطانوی اقتدار مستحکم ہو گیا اور اس کو اب کوئی خطرہ نہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اورنگ زیب عالمگیر کے انتقال کے بعد اسلامی ہند میں نظام الملک آصف جاہ ، سلطان حیدر علی اورٹیپو سلطان جیسی حیرت انگیز صلاحیت رکھنے والا تیسرا کوئی حکمران نظر نہیں آتا۔ خاص طور پر حیدر علی اور ٹیپو سلطان کو اسلامی تاریخ میں اس لیے بلند مقام حاصل ہے کہ انہوں نے دور زوال میں انگریزوں کا بے مثل شجاعت اور سمجھداری سے مقابلہ کیا۔ یہ دونوں باپ بیٹے دور زوال کے ان حکمرانوں میں سے ہیں جنہوں نے نئی ایجادوں سے فائدہ اٹھایا۔ وقت کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کی اور اپنی مملکت میں فوجی، انتظامی اور سماجی اصلاحات کی ضرورت محسوس کی۔ انہوں نے فرانسیسیوں کی مدد سے اپنی افواج کی جدید انداز پر تنظیم کی جس کی وجہ سے وہ انگریزوں کا 35 سال تک مسلسل مقابلہ کرسکے اور ان کو کئی بار شکستیں دیں۔ یہ کارنامہ اٹھارہویں صدی کے نصف آخر میں کوئی دوسرا حکمران انجام نہیں دے سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں انگریزوں کا جتنا کامیاب مقابلہ حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے کیا کسی اور مسلم اور غیر مسلم حکمران نے نہیں کیا۔
ٹیپو سلطان کا یہ قول آج بھی زباں زد خاص وعام ہے :
”شیر کی ایک دن کی زندگی ، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔“
ٹیپو سلطان کا مقبرہ گنبد میں واقع ہے، جس میں ٹیپو سلطان، ان کے والد حیدر علی اور ان کی والدہ فخر النساء کی قبریں موجود ہیں۔ اسے ٹیپو سلطان نے اپنے والدین کی قبروں کے لیے بنایا تھا۔ انگریزوں نے ٹیپو کو 1799ء میں سری رنگا پٹنم کے محاصرے میں ان کی موت کے بعد یہاں دفن کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
شاعر مشرق علامہ اقبال کو ٹیپو سلطان شہید سے خصوصی محبت تھی۔ 1929ء میں آپ نے شہید سلطان کے مزار پر حاضری دی اور تین گھنٹے بعد باہر نکلے تو شدّت جذبات سے آنکھیں سرخ تھیں۔ انھوں نے فرمایا:
” ٹیپو کی عظمت کو تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی وہ مذہب و ملّت اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑتا رہا یہاں تک کہ اس مقصد کی راہ میں شہید ہو گیا۔“
علامہ اقبال نے ضرب کلیم میں سلطان ٹیپو کی وصیت کے عنوان سے یہ نظم لکھی ہے۔
تو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبول
لیلی بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
کھویا نہ جا صنم کدہ کائنات میں
محفل گداز گرمی محفل نہ کر قبول
صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبرئل نے
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول
باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
