١٨٥٧ کی جنگِ آزادی
تحریر: مفتی محمد آصف اقبال قاسمی
انگریزوں کے خلاف پہلی مسلح جنگ جسے انگریزوں نے غدر کانام دیا تھا  اس کی وجہ ایک تویہ ہوئی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے تمام صوبوں اور کئی ریاستوں کو اپنی عملداری میں شامل کرلیا تھا جس کی وجہ سے ہندوستانی باشندوں کے دلوں میں خدشات پیدا ہونے لگے کہ اب  انگریزوں نے پورے ملک کونگل لینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور غلامی حقیقی معنوں میں ہماری دہلیز تک آگئی ہے ۔دوسرے یہ بات بھی عام طور پرپھیلنے لگی کہ انگریزی فوج جوکارتوس استعمال کرتی ہے اس میں گائے اور خنزیرکی چربی استعمال کی جاتی ہے ۔ انگریزی فوج میں کچھ دیسی سپاہی بھی تھی ان میں ہندو اور مسلمان دونوں تھے ۔ گائے کی چربی کے استعمال نے ہندوؤں کے جذبات کو مجروح کیا اور خنزیر کی چربی نے مسلمان سپاہیوں کے جذبات کو برانگیختہ کیا۔ اس لئے کہ کارتوس کے استعمال کے لئے  انہیں سیفٹی کیچ دانتوں سے  ہٹانا پڑتاتھا۔ نتیجہ یہ ہو اکہ یہ دیسی سپاہی انگریز فوج سے بغاوت پر آمادہ ہوگئے اور ان فوجیوں نے ان کارتوسوں کے استعمال سے انکار کردیا نتیجہ کے طور پر انگریزوں نے ان سپاہیوں کی فوجی وردی اتار کر انہیں بیڑیا ں پہنادی اور انہیں قید کردیا ان میں ایسے سپاہی بھی تھے جنہوں نے انگریزوں کے لئے بڑی بڑی قربانیاں دی تھیں۔جن سپاہیوں کو برخاست کیا گیا تھا وہ پورے ملک میں پھیل گئے اور انگریزی حکومت  کے خلاف ماحول بنانے لگے  ۔ اس سلسلے  میں دمدم ، بارک پور  ، میرٹھ اور لکھنؤ میں سپاہیوں نے علم بغاوت بلند کیا سپاہیوں کے ایک رجمنٹ کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی لیکن دیسی سپاہیوں نے انگریز افسروں کو قتل کرکے ان قیدیوں کو آزاد کرالیا  اور دہلی  پہنچ کے وہاں کے سپاہیوں کو بھی اپنی صف میں شامل کرلیا اور بہادر شاہ ظفر کی تخت نشینی کا اعلان کردیا۔بہادر شاہ ظفر اس کے لئے ذہنی طور پور تیار نہیں تھے اس لئے کہ باشاہت  برائے نام قائم تھی نہ ان کے پاس اتنا خزانہ تھا کہ ان  سپاہیوں تنخواہیں دے سکیں اور ان کی ضروریات پوری کرسکیں اور نہ ان کی عمر اس بات کی اجازت دیتی تھی کہ وہ اس طرح کی تحریک کی قیادت کرسکیں۔ ان کی حالت انہی کے ایک شعر سے جھلکتی ہے ۔        ؎
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں، نہ کسی کے دل کاقرار ہوں
جوکسی کے کام نہ آسکے ، میں وہ ایک مشت غبار ہوں
لیکن ان سپاہیوں نے ایسی ضد کی کہ لامحالہ انہیں تیار ہونا پڑا ۔ ظاہر ہے بہادر شاہ ظفر ان سپاہیوں کے قائد نہیں تھے اور نہ ہی وہ ان کی فوج کا حصہ تھے بلکہ ان سپاہیوں نے بہادر شاہ ظفر کو اپنے قابو میں کرلیا تھا اور پھر بہادر شاہ ظفر کے منع کرنےکے باوجود ان سپاہیوں نے عام انگریزوں کو قتل کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ کچھ انگریز عورتیں محل کے اندر پناہ لی ہوئی تھیں انہیں بھی ماردیا گیا ۔ سنہ 1857 کے واقعات پر انتہائی اہم تحقیق کرنے والی معروف تاریخ دان رعنا صفوی بتاتی ہیں:
11 اور 12 کو جب انھوں نے حملہ کیا اور انگریزوں پر وار کیا تو اس وقت کافی انگریز تو شہر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور کافیوں کو انھوں نے مارا بھی۔ کچھ عورتوں نے قلعے میں آ کر پناہ لی۔ وہیں پر انھوں نے دشمنی میں 56 لوگوں کو مار ڈالا۔ ان میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے جبکہ ان میں ایک دو مرد بھی تھے۔ٗ”
ان کے مطابق ’بہادر شاہ ظفر کے خلاف جب مقدمہ چلا تو ان کے خلاف سب سے بڑا الزام یہی تھا کہ انھیں آپ نے مروایا۔ حالانکہ ظہیر دہلوی کی کتاب اگر پڑھیے تو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت 1857 کے غدر کے وقت قلعے میں موجود عینی شاہدین تھے وہ بتاتے ہیں کہ بادشاہ نے بہت کہا تھا کہ یہ کسی بھی مذہب میں نہیں لکھا ہے کہ تم معصوموں کو مارو۔”( بی بی سی تبصرہ از ریحان فضل 11 مئی 2020ء)
اس جنگ میں کئی ریاستوں نے حصہ لیا ان میں جھانسی کی رانی لکشمی بائی کا نام سر فہرست ہے جنہوں نے انگریزوں کا زبردست مقابلہ کیا لیکن وہ بھی  1857 ء کی جنگ آزادی میں وطن پرقربان ہوگئیں۔ 
جنرل بخت خان  1857 ء کی جنگ آزادی کا ایک اہم کردار  ہے انگریزی فوج میں صوبہ دار تھے۔ بہادر شاہ ظفر کی مدد کےلئے اپنے فوجی دستے سمیت دہلی آئے اور نہایت بےجگری سے انگریزوں کا مقابلہ کیا لیکن بہادر شاہ ظفر کےقلعہ چھوڑدینے کے بعد وہ بھی دہلی سے باہر چلے گئے اور روپوشی کی زندگی گزارنے پرمجبور ہوگئے ۔
  کانپور میں نانا صاحب نے علم بغاوت بلند کیا اور ایک فوجی چھاؤنی پر قبضہ کرلیا لیکن یہ قبضہ زیادہ دیر تک باقی نہیں رہا اور انگریزوں نے حملہ کرکے دوبارہ  اس چھاؤنی کو حاصل کرلیا۔ نانا صاحب اس کے بعد گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے 1859ء میں نیپال پہنچے جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔
 حافظ ضامن شہید ،مولانا قاسم نانوتوی ، مولانا رشید احمد گنگوہی ، مولانا منیر الدین،مولانا رحمت اللہ کیرانوی اور ان کے رفقا نے شاملی کے میدان میں انگریزوں کا مقابلہ کیا اور 14 ستمبر 1857 کو اسی جنگ میں حافظ ضامن شہید ہوئے ۔ان کی قیادت میں ہزاروں علماء کرام نے شاملی کی جنگ میں شرکت کی اور وطن کی آزادی کے لئے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔
 علامہ فضل حق خیر آبادی اور ان کے ساتھی مفتی صدر الدین خان آزردہ، سید کفایت علی کافی اور دیگر بہت سے مسلمان علما نے دہلی کی جامع مسجد سے بیک وقت انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی جاری کیا ۔ جہاد کے اس فتوے پرمفتی صدر الدین خان، مولوی عبد القادر، قاضی فیض اللہ، مولانا فیض احمد بدایونی، وزیر خان اکبر آبادی، سید مبارک حسین رامپوری نے دستخط کیے۔جس کے نتیجے میں مسلمان اس جنگ کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے لڑے۔اس جنگ میں اگرچہ پوری ہندوستانی قوم شامل تھی لیکن مسلمانو ں کا پلرہ بھاری تھا۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی لکھتے:
”باوجود اس کے کہ یہ جنگ آزادی صحیح معنوں میں عوامی اور قومی تھی اور ہندومسلمان سب ان میں شریک تھے ،اور ہندوستان نے وطن دوستی ، اتحاد اور گرمجوشی اور ولولہ کا ایسا منظر کبھی نہ دیکھا تھا جیسا کہ اس وقت دیکھنے میں آیا پھر بھی قیادت ورہنمائی کے میدان میں مسلمانوں کا پلرہ بھاری تھا ،چنانچہ اکثر قائد مسلمان ہی تھے۔“(ہندوستانی مسلمان۔ ص 158)
1857 کی جنگ آزادی کی تنظیم اس وقت کے انقلابی لیڈروں نے کی تھی اور یہ طے تھا کہ 31 مئی 1857 ء کو بیک وقت پورے ملک میں بغاوت شروع ہوگی لیکن اس سے پہلے ہی سپاہیوں نے بغاوت شروع کردی جس کا سبب ان کارتوسوں کا استعمال تھا جس میں گائے اور خنزیر کی چربی کی ملاوٹ کا شک تھا  اس میں منگل پانڈے کا نام سر فہرست ہے جس نے ایک انگریز افسر کو اس وقت گولی مار دی جب اسے کارتوس  استعمال کرنے کا حکم دیا گیا اور اس نے نہیں مانا۔نتیجہ کے طور پر اسے پھانسی دے دی گئی ۔اس لئے یہ جنگ وقت سے پہلے پورے ملک میں پھیل گئی اور غیر منظم طور پر اس میں ہندوستانی عوام کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی ، پورا ملک بلا تفریق مذہب جوش وجذبہ سے لبریز تھا وطن کی آزادی کے لئے ہر شخص قربان ہونے کو تیار تھا اور ایک بہت بڑی تعداد نے اپنے خون کا نذرانہ بھی پیش کیا لیکن تقریبا دوسال کی مسلسل جنگ  کے بعد بھی ناکامی ہی ہاتھ لگی اس کی سب سے بڑی  وجہ بہتر قیادت کا فقدان تھا ، دہلی ، لکھنو، شاملی ،کانپور ، میرٹھ اور ملک کے دوسرے شہروں میں  انگریزوں کے ساتھ  مجاہدین آزادی نےلوہا لینے کی کوشش تو کی لیکن انگریزوں کی فوجی قیادت کی مضبوطی اور ان کی تنظیم کے مقابلے میں کہیں بھی زیادہ دیر تک ٹھہر نہ سکے اور بالآخر شکست کاسامنا کرنا پڑا اور 20 ستمبر 1857 کو لال قلعہ  سے مغلیہ سلطنت کی برائے نام حکومت بھی ختم ہوگئی اور لال قلعہ پریونین جیک لہرادیا گیا۔ اس جنگ میں صرف یک طرفہ نقصان ہی نہیں ہو انگریزوں کے بڑے برے افسر اور جنرل اس جنگ میں مارے گئے لیکن ان کے مقابلے ہندوستانیوں کا نقصان کئی گنا زیادہ تھا اور جنگ کے بعد انگریزوں نے بدلے کی آگ بجھانے کے لئے نہایت ہی دردناک سزائیں تجویز کیں  لاکھوں ہندوستانیوں کو قتل کیا ، جیلوں میں بند کیا اور جلاوطن کیا۔ ان میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی ۔علماء کی ایک کثیر تعداد کوپھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا اور بہت  سے علماء کو زندہ جلادیا گیا ۔اس قتل عام کے متعلق مولانا  سید ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں:
” یہ ایک قتل عام تھا ، لیکن مسلمان خاص طور سے اس کا نشانہ تھے، اس لئےکہ بہت سے ذمہ دار  انگریز یہ سمجھتے تھےکہ یہ اسلامی جہاد تھا اور مسلمان اس بغاوت کےبانی ، قائد اور رہنما ہیں۔ ایک  انگریز مصنف (Henry Med) کہتاہے:
” اس سرکشی کوموجودہ مرحلہ میں سپاہیوں کی بغاوت کانام نہیں دیا جاسکتا ،یقینا اس کاآغاز سپاہیوں سےہو الیکن بہت جلد اس کی حقیقت آشکار ہوگئی ، یعنی یہ اسلامی بغاوت تھی ۔“(ہندستانی مسلمان ص 162)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *