فصاحت و بلاغت

تحریر : مفتی محمد آصف اقبال قاسمی
فصاحت و بلاغت کی تعریف
بلاغت :بلاغت کے لغوی معنی تیز بیانی کے ہیں ۔مجازی معنی کے اعتبار سے بلاغت خوش بیانی کو کہاجاتاہے ۔ ایسا کلام جو مقتضائے حال کےمطابق ہو ، حشو وزوائد سے پاک ہواور سننے والے پر اثر چھوڑ جائے۔ایسے کلام کو کلام بلیغ اور اس فن کو بلاغت کہا جاتاہے ۔فصاحت وبلاغت دونوں مترادف الفاظ ہیں اور ایک دوسرے کے لئے بولے جاتے ہیں۔لیکن علمائے ادب نے فصاحت کی تعریف الگ کی ہے ۔فصاحت کی تعریف یہ ہے کہ کلمہ یا کلام میں جو حروف استعمال کیئے جائیں ان میں تنافر نہ ہو ، الفاظ نامانوس نہ ہوں ، قواعد صرفی کے خلاف نہ ہو ۔اس طرح کلام میں بلیغ کے لئے فصیح ہونا لازم ہے ۔ لیکن کلام فصیح کے لئے بلیغ کا ہونا لازم نہیں۔گویا بلاغت اور فصاحت میں عموم خصوص مطلق کی نسبت پائی جاتی ہے۔اکبر الٰہ آبادی نے کہا ہے :
سمجھ میں صاف آجائے فصاحت اس کو کہتے ہیں
اثر ہو سننے والے پر بلاغت اس کو کہتے ہیں
یعنی فصاحت کا مطلب یہ ہوا کہ بات مخاطب کے حالات کے پیش نظر اس انداز میں پیش کی جائے کے اس کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہ ہو بلکہ وہ سنتے کلام کے مقتضا و سمجھ جائے ۔ اس کے ساتھ اگر اس کلام میں ایسی خصوصیات ہیں جس نے سننے والے کے دل کو متاثر کردیا ، الفاظ وتراکیب ایسے استعمال کئے گئے کہ سننے والا اس کی سحر انگیزی میں جکڑ گیا تو اسی کو بلاغت سے تعبیر یا جائے گا۔
فصاحت و بلاغت کا مفہوم
کلام بلیغ کے مقتضائے حال کے مطابق ہونا نہایت ضروری ہے اور یہ مقتضائے حال حالات کے اعتبار سے بدلتارہتا ہے ۔ کبھی حالات کا تقاضا یہ ہوتاہے کہ کلام نہایت مختصر کیا جائے اور کبھی حالا ت کا تقاضا یہ ہوتاہے کلام طویل کیاجائے۔جیسے ایک کریہہ المنظر شخص نے جس کی طرف دیکھنا بھی آدمی کو ناگوار ہو اس نے سوال کردیا کہ آپ کیا کرتے ہیں تو اس وقت بس اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ میں سرکاری ملاز م ہوں لیکن یہی سوال اگر آپ کے کسی محبوب نے کردیا تو اتنا سا جواب اس کی ناراضگی کا سبب ہوگا اور جب مخاطب آپ کے کلام سے ناراض یا کبیدہ خاطر ہو گیا تو یہ کلام بلیغ نہ رہا۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے دربار میں وادی سینا میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے سوال کیا کہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے ۔ اس کا سیدھا سا جواب تھاکہ لاٹھی ہے ۔ لیکن یہ جواب بے ادبی پر محمول ہوتا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات تو معلوم ہی تھی کہ موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں جو چیز موجود ہے اسے لاٹھی کہتے ہیں۔لیکن یہاں حالات کا تقاضا یہ تھا کہ اللہ رب العزت کی ذات گرامی سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہورہا ہے اور یہ شرف ہر کسی کو نہیں ملتااس لئے یہاں بات کو طویل کرنا باعث شرف تھا تاکہ زیادہ دیر تک ہمکلامی جاری رہے ۔ اس لئے موسیٰ علیہ السلام نے صرف لاٹھی کہنے پر اکتفا نہیں بلکہ اس لاٹھی سے جوجو کام کرتے تھے انہیں گنانا شروع کردیا۔اور کہنے لگے کہ ”یہ میری لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوںاور میرے لیے اس میں کئی اور ضرورتیں ہیں۔“حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوری تفصیل کے ساتھ لاٹھی کی خصوصیات گنادیں اور اخیر میں ایک ایسی بات بھی کہہ دی کہ مزید سوال کا دروازہ کھلا رہ جائے یعنی ” میرے لیے اس میں کئی اور ضرورتیں ہیں۔“
اس سے پتہ چلتاہے کہ جب مخاطب آپ کے کلام سے محضوض ہورہا ہو یا آپ کی بات سننے کے لئے تیار بیٹھا ہو تو بات مختصر کرنے کے بجائے طویل کرنا حالات کا مقتضا ہے اور بلاغت کا اہم اصول ہے۔ لیکن اگر مخاطب آپ کی بات سننے کو تیار نہ ہو یااکتاہٹ کا شکار ہو لیکن بات کرنا ضروری ہے تو ایسی مختصر بات کہیں کہ سننے والا بات سن بھی لے اور آپ کا مدعا سمجھ بھی جائے ۔ یہ بلاغت ہے ۔
اسی طرح بلاغت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ کلام حشو وزوائد سے پاک ہو یعنی بات جس موضوع پر ہورہی ہے اسی موضوع پر بات کی جائے کوئی ایسی بات جو موضوع سے متعلق نہیں ہے اس کو نہ بیان کیا جائے ۔ اسی طرح کسی جملہ میں ایسے الفاظ کا اضافہ جن کو نکال دینے کے بعد بھی جملہ کے مطلب میں کوئی فرق نہیں پڑتا اس کا حسن مزید بڑھ جاتاہے ۔ آج کل ہمارے مقررین اپنے کلام میں خاص طور سے حشو وزوائد کا استعمال محض اپنی بات لمبی کرنے کےلئے کرتے ہیں۔ یا بعض باتونی قسم کے لوگ جب کسی کو اپنے چنگل میں پھنسالیتے ہیں اور وہ بیچارہ ان کے ادب و احترام میں ان کی باتیں غور سے سننے لگتاہے تو یہ اپنی بات بڑھانے کے لئے شاخ در شاخ گھومتے رہتے ہیں ۔ ایسے کلام بلاغت سے خالی ہوتے ہیں ۔مثال کے طور کسی کی کوئی بات آپ کو بے حد پسند آئی یا کسی شاعر کوکوئی مصرع بہت اچھا لگا تو آ پ چاہتے ہیں کہہ اس مصرع کو دوبارہ سنیں ۔ اس کے لیے آپ کا یہ کہنا ”دوبارہ“ یا ”دوبارہ ارشاد فرمائیں “ کلام بلیغ ہے ۔ لیکن اسی کو اگر آپ اس طرح کہیں ۔ ”دوبارہ دہرائیے“یا” دوبارہ Repeatکیجئے “ غیر بلیغ ہے ۔ اس لئے کہ ” دوبارہ دہرائیے “ میں سے کوئی بھی ایک لفظ اگر حذف کردیا جائے تو معنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس لئےکہ جومعنی دوبارہ کے ہیں وہی دہرائیے کے بھی ہیں یا Repeat معنی بھی دہرانے کے ہی اس لیے ان چیزوں کو ایک ہی جملہ میں جمع کرنا حشو و زوائد میں داخل ہے اور اس کی وجہ سے لام بلاغت کے معیار سے نیچے گرجاتاہے۔
مرزا غالب کایہ شعر بلاغت کی بہترین مثال ہے:
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
بلاغت کے لئے فصاحت کاہونا ضروری ہے یعنی کسی بھی کلام کے بلیغ ہونے کے لئے ابتداءً یہ ضروری ہے کہ وہ کلام فصیح ہوجب تک کلام میں فصاحت کے عناصر موجود نہیں ہوں اس پر بلاغت کااطلاق نہیں ہوسکتا لیکن اس کے برعکس مطابقت ضروری نہیں ہے یعنی ہر کلام فصیح کابلیغ ہونا ضروری نہیں لیکن ہرکلام بلیغ کا فصیح ہونا ضروری ہے۔ اس لحاظ سے فصاحت کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کابلاغت میں پایاجانا ضروری ہے ۔ فصاحت کی تعریف میں یہ بات گذر چکی ہے کہ وہ لفظ یا جملہ تنافر کلمات سے خالی ہو ۔
تنافر کامادہ نفرت ہے ۔اصطلاحی اعتبار سے تنافر کلمات کلام میں دوحرف صحیح کے اس طرح جمع ہوجانے کو کہا جاتاہے جس سے کلام میں رکاوٹ یا ناگواری پید اہوجائے ۔اردو میں حروف علت کے سوا جتنے حروف ہیں وہ سب حروف صحیح ہیں ۔ان میں سے کوئی دو حروف یکے بعد دیگرے اس طرح جمع ہوجائیں کہ ان کی ادائیگی کے وقت زبان پر ایک طرح کی رکاوٹ پید اہونے لگے یا سننے والے کو ناگوار معلوم ہوں تواس کو تنافر حروف سے تعبیر کیا جاتاہے ۔تنافر کی چار قسمیں ہیں۔
(1) اتصال بعدالسکوت (2) توالی الاصوات (3) تنافر مرکب(4) مرور الحروف
اتصال بعد السکوت :کا مطلب یہ ہے کہ کلام میں دو الفاظ ایسے استعمال کیے جائیں کہ ایک کلمہ جس حرف ساکن پر ختم ہورہا ہے دوسرا کلمہ اسی حرف یا کسی قریب المخرج حرف سے متحرک حالت میں شروع ہو ۔جیسے غالب کایہ شعر ملاحظہ فرمائیں:
مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
پہلے مصرع میں ”تک“ اور ”کب“ میں تنافر پایا جاتاہے کہ ”تک “ کا کاف ساکن ہے اور”کب“ کاکاف متحرک ہے ۔اس کی وجہ سے اس مصرع میںوہ روانی اور سلاست موجود نہیں جو مصرع ثانی میں ہے ۔اسی طرح ”بزم“ اور ”میں“ میں وہی صورت حال ہے ۔جیسے انور شعور کایہ شعر ملاحظہ فرمائیں:
کچھ دنوں اپنے گھر رہا ہوں میں
اور پھر در بہ در رہا ہوں میں
اس کے پہلے مصرع میں ”گھر “ اور ”رہا“میں حر ف ”ر“دولفظوں میں یکے بعد دیگرے آیا ہے اور ان میں سے پہلا ساکن اور دوسرا متحرک ہے اسی طرح دوسرے مصرع میں بھی یہی حال ہے ۔ بلکہ پوری غزل اس طرح کے تنافر کی شکار ہے۔
توالی الاصوات:توالی کا مطلب کسی چیز کا پے در پے آنا ہے اور اصوات صوت کی جمع ہے یعنی آواز ۔ توالی الاصوات کا مطلب یہ ہوا کہ دو ایسے الفاظ متواتر وارد ہوں جن کی آواز ایک جیسی ہو۔اس سے بھی کلام میں تنافر پید اہوتا ہے اور الفاظ کی ادائیگی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ حساس سماعت ایسے الفاظ سن کر ناگواری محسوس کرتی ہے۔جیسے فیض احمد فیض کایہ شعر دیکھئے:
گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
اس کے دوسرے مصرع میں ”کاکاروبار“ میں ”کا“دوبار متصلا آرہا ہے جس کی وجہ سے مصرع ثقیل ہوگیاہے ۔اسی طرح میر تقی میر کایہ شعر دیکھئے:
شاید کہ آج رات کو تھے میکدے میں میرؔ
کھیلے تھا ایک مغبچہ مہر نماز سے
پہلے مصرع میں ” میکدے میں میر“ تین الفاظ اس طرح متوالی استعال ہوئے ہیں کہ ہر لفظ ایک ہی حرف سے شروع ہورہاہے جو تنافر کا سبب ہے۔
تنافر مرکب : وہ کلام ہے جس میں اتصال بعد السکوت بھی پایا جائے اور توالی الاصوات بھی پایا جائے ۔ جیسے مرزا غالب کا یہ شعر دیکھیں:
وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
راز مکتوب بہ بے ربطی عنواں سمجھا
کہ اس شعر کے دوسرے مصرع میں ” مکتوب بہ بے “میں مکتوب کا ”ب“ ساکن اور آگے ”بہ“ کا ”ب“ متحرک ہے اسی طرح ”بہ“اور ”بے“متوالی الاصوات ہیں ۔
مرور الحروف : کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی جملہ میں حروف کی تکرار ناگواری کا سبب بن جائے ۔ جیسے ظفر اقبال کایہ شعر
پھر جا رکے گی بجھتے خرابوں کے دیس میں
سونی سلگتی سوچتی سنسان سی سڑک
اس شعر میں دوسرے مصرع کاہر لفظ ایک ہی حرف سے شروع ہو تا ہے جس کو روانی کے ساتھ پڑھنا مشکل ہے ۔
نامانوس الفاظ کااستعمال بھی کلام کو فصاحت سے گرا دیتاہے ۔ ایسے غریب الفاظ جنہیں لغت دیکھے بغیر حل نہ کیا جاسکے انہیں نامانوس الفاکہا جاتاہے۔جیسے غالب کایہ شعر :
تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں
کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
دوسرے مصرعے میں ”فتراک“یعنی چمڑے کے تسمے جو زین کے عقب میں دائیں بائیں جانب شکار یا سامان باندھنے کے واسطے لگے ہوتے ہیں، شکار بند کو کہاجاتاہے ایک غیر مستعمل لفظ ہے جسے عام آدمی بغیر لغت کے حل نہیں کرسکتا۔ اسی طرح ”نخچیر“جس کے معنی شکار کے ہیں بہت قلیل الاستعمال لفظ ہے ۔ان الفاظ کی وجہ سے کلام کی فصاحت کمزور پڑگئی ہے ۔
علامہ شبلی نعمانی نے فصاحت کلام سے متعلق بہترین بحث کی ہے مقالات شبلی سے اس کاکچھ حصہ قارئین کے افادہ کے لئے پیش ہے :
”فصاحت کے مدارج میں اختلاف ہے، یعنی بعض الفاظ فصیح ہیں، بعض فصیح تر، بعض اس سے بھی بڑھ کرفصیح۔ مثال کے طورپر ہم دوچارمثالیں نقل کرتے ہیں، جن سے فصاحت اورفصاحت کے اختلاف مراتب کا اندازہ ہوسکے گا، ان مثالوں میں ایک ہی مضمون مختلف الفاظ میں ادا کیاگیاہے۔
کس نے نہ دی انگوٹھی رکوع وسجود میں
سائل کو کس نے دی ہے انگوٹھی نماز میں
آنکھوں میں پھر ےاورنہ مردم کو خبر ہو
آنکھوں میں یوں پھرے کہ مژہ کوخبر نہ ہو
رویا میں بھی حسین کورویا ہی کرتے ہیں
حسرت ہے کہ خواب میں بھی رویا کیجے
جیسے مکاں سے زلزلے میں صاحب مکاں
جیسے کوئی بھونچال میں گھرچھوڑکے بھاگے
معانی و الفاظ کی مناسبت
حسن کلام میں ایک بڑا نکتہ یہ ہے کہ مضامین کی نوعیت کے لحاظ سے الفاظ استعمال کئے جائیں۔ لفظ چونکہ آوازکی ایک قسم ہے اور آواز کے مختلف اقسام ہیں، مہیب، پررعب، سخت،نرم ،شیریں، لطیف۔ اسی طرح الفاظ بھی صورت اوروزن کے لحاظ سے مختلف طرح کے ہوتے ہیں۔ بعض نرم، شیریں ا ورلطیف ہوتے ہیں، بعض سے جلالت اور شان ٹپکتی ہے بعض سے درد اورغمگینی ظاہر ہوتی ہے۔ اسی بنا پرغزل میں سادہ، شیریں، سہل اورلطیف الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ قصیدے میں پرزور، شاندار الفاظ کا استعمال پسندیدہ سمجھا جاتاہے۔ اسی طرح رزم و بزم، مدح و ذم، فخرو ادعا، وعظ و پند، ہر ایک کے لئے جدا جدا الفاظ ہیں۔
شعرا میں سے جو اس نکتے سے آشنا ہیں، وہ ان مراتب کا لحاظ رکھتے ہیں اوریہ ان کے کلام کی تاثیر کا بڑا راز ہے، لیکن جواس فرق مراتب سے واقف نہیں، یا ہیں لیکن ایک خاص رنگ ان پراس قدر چڑھ گیا ہے کہ ہرقسم کے مضامین میں ایک ہی قسم کے لفظ ان کی زبان سے ادا ہوتے ہیں، ان کا کلام بجز ایک خاص رنگ کے بالکل بے اثر ہو تاہے۔ یہی نکتہ ہے کہ سعدی سے رزم اور فردوسی سے بزم نہیں نبھ سکتی۔ فردوسی نے جہاں حضرت یوسف کی نالہ وزاری کو اپنی کتاب یوسف زلیخا میں لکھا ہے، لکھتا ہے، بغرید یوسف د گربارہ زار۔ رزم، بزم، فخر، حسرت، شوق، ہرایک مضمون کے لئے خاص قسم کے الفاظ موزوں ہیں اوران مضامین کے لئے انہی الفاظ کواستعمال کرنا چاہئے۔ مثلاً ایک شاعر نے جلال اور غیظ کو ان الفاظ میں اداکیاہے،
کم تھا نہ ہمہمہ اسد کردگارسے
نکلا ڈکارتا ہوا ضیغم کچھار سے
کیا جانے کس نے ٹوک دیا ہے دلیر کو
سب دشت گونجتا ہے یہ غصہ ہے شیرکو
تھا یہ بپھرا ہوا عباس مرا شیرجواں
سینہ حر پہ رکھے دیتا تھا نیزے کی سناں
لرزہ تھا رعبِ حق سے ہر ایک نا بکار کو
روکے تھا ایک شیر جری دس ہزار کو
ان اشعار میں جو الفاظ آئے ہیں، جس طرح ان کے معنی غیظ وغضب کے ہیں، اسی طرح ان الفاظ کی آواز اورلہجے سے بھی ہیبت اور غیظ وغضب کا اظہار ہوتاہے۔
