سونے کی چڑیا اورگورے شکاری

تحریر: مفتی محمد آصف اقبال قاسمی 
پندرہویں صدی عیسوی سے پہلے ہندوستان پوری دنیا میںسونے کی چڑیا مانا جانے والا ملک تھاجس کی شہرت چاروں طرف تھی اسی شہرت کی بنیاد پر واسکو ڈی گاما جو پرپرتگال کارہنے والا ایک بحری قزاق تھا۔ چند ملاحوں کے ساتھ ہندوستان کے سفر پر روانہ ہوا اور حادثات سے بچتا بچاتا آخر کار 1498ء میں ہندوستان پہنچا اور ریاست کیرالا کے مشہور شہر مالابار کے ساحلی علاقہ جسے سمندری شہزادی کے نام سے جاناجاتا تھا کالی کٹ میں اپنی تجارت کاآغاز کیا یہ کسی یورپین قوم کی پہلی باضابط آمد تھی جنہوں نے نہایت منصوبہ بند طریقہ سے تجارت کا آغاز کیا اور اس کے ذیل میں اپنی مذہبی تبلیغ کو فروغ دینےکی کوشش کی اور اس راہ میں جو بھی حائل ہوا اس کونہایت بے رحمی سے قتل کردیا ۔
ان پرتگالی لٹیروں کی جزوی کامیابی کو دیکھ کر انگلینڈ کے 101 تاجروں نے آپس میں کچھ سرمایہ جمع کرکے ایک کمپنی بنائی جس کانام ایسٹ انڈیا کمپنی رکھا گیاہندوستان کی طرف روانہ ہوا اور 1601 ء میں ہندوستان پہنچ کر بنگال کو اپنا مرکز بنایا اور دھیرے دھیرے تجارت کی آڑ میں انگریزوں کی آمد شروع ہوئی۔ انگریزوں نے اس تجارت کی آڑ میں اپنی فوجی طاقت ہندوستان میں منتقل کرنا شروع کیا اور مغلیہ دربار میں چاپلوسی اور تجارت کے بہانے سرایت کرگئے اور بادشاہ وقت اورنگزیب عالمگیر سے تجارت کرنے اور اپنے مال کی حفاظت کا پروانہ حاصل کرلیا۔اورنگزیب عالمگیر کی مضبوط حکومت اور سیاسی پکڑکی وجہ سے یہ لوگ زیرزمیں اپنا کام کرتے رہے اور اپنی فوجی طاقت کو مضبوط بناتے رہے لیکن جب 1707ء میں اورنگزیب کی وفات ہوئی اور ملک میں طوائف الملوکی کا دور شروع ہوا تو ہندوستان کی حکومت آپسی چپقلش کی وجہ سے کمزور ہوگئی ۔ اس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے اصل منصوبے پر کام کرنا شروع کیا اور ریاست بنگال پر اپنا قبضہ جمانے کی کوشش کرنے لگے جس کا احساس اس وقت بنگال کے نواب سراج الدولہ کو ہو ا اور انہوں نے انگریزوں کی ریشہ دوانیوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی لیکن انگریزوں نے نہایت چالاکی سے نواب سراج الدولہ کی فوجوں میں غدار پید اکرلیا تھا جس کی وجہ سے نہایت قلیل انگریزی فوج نے نواب سراج الدولہ کی فوج کو 23 جون 1757ء پلاسی کی جنگ میں شکست دے دی۔جس کا سہرا میر جعفر کو جاتا ہےجس نے نوابی کے لالچ میں نواب سراج الدولہ سے غداری کی اور انگریزوں سے مل کر اس جنگ میں شکست کاباعث بنا۔ورنہ انگریزی فوج کی تعداد صرف پانچ ہزار تھی اور نواب سراج الدولہ کی فوج پچاس ہزار تھی اس کے ساتھ ہی جدید ہتھیاروں سے لیس بھی تھی لیکن میر جعفر نے نوابی فوج کے توپوں میں پانی بھروادیا تھا اور ہردستہ کے سالار کو غدار بناکر انگریزوں کاحمایتی بنا چکا تھا۔ دوسری طرف اس نے دہلی کے کٹھ پتلی بادشاہ شاہ عالم سے اپنی نوابی کا سرٹیفکیٹ پہلے ہی لکھوا لیا تھا بالآخر نواب سراج الدولہ گرفتا رہوئے اور میر جعفر کے بیٹےمیرن نے انہیں قتل کیا ۔اس جنگ کے بعد انگریزوں کی ہمت بڑھی اور انہوں نے بنگال پرقبضہ کرلیا۔چھوٹے چھوٹے نواب اور جاگیرداروں نے آپسی چپقلش کی وجہ سے خود کو بہت کمزور کرلیا تھا اس لئے مجبوراً انہیں انگریزوں کی ابھرتی ہوئی طاقت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ جنہوں نے مزاحمت کی کوشش کی انہیں ہٹا کر ایسے لوگوں کو جاگیردار اور نواب بنادیا گیا جو انگریزوں کے حمایتی تھے ۔ دھیرے دھیرے پورے ہندوستان میں ایسے ہی قبضہ کیا گیا اور 1800ء میں بالآخر انگریزی فوج نے دہلی کا محاصرہ کرلیا ۔ دہلی کی حفا ظت کے لئے مرہٹہ فوج تعینات تھی لیکن وہ انگریزی فوج کے مقابلے میں زیادہ دنوں تک نہیں ٹھہر سکی اور 1803ء میں انگریز فاتحانہ دہلی میں داخل ہوگئے ۔اور اس وقت کے بادشاہ شاہ عالم سے یہ معاہد لکھوایا” خلق خدا کی ، ملک بادشاہ سلامت کا، حکم کمپنی بہادر کا“ اس کے بعد ہندوستان عملی طور پر انگریزوں کے زیر تسلط آگیا۔
ہندوستان کو معاشی طور پر کمزور کرکے برطانوی مصنوعات کو فروغ دیا گیا تاکہ ہندوستانی عوام بے روزگار ہوکر انگریزوں کی محتاج بن جائے اور ان پر حکومت کرنا آسان ہوجائے۔ اس کے لئے ہندوستانی کپڑوں کی صنعت جوصدیوں پرانی تھی اس کو ختم کردیا گیا۔
برطانیہ میں بنے کپڑے کو ہندوستان میں مقبول بنانے کے لیے ہندوستان کی کپڑے کی صدیوں پرانی صنعت کو بڑی بے رحمی سے تباہ کیا گیا۔ اگر کوئی جولاہا کپڑے فروخت کرتا ہوا نظر آ جاتا تو اس کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا جاتا تھا تاکہ وہ زندگی بھر کپڑا نہ بن سکے۔ کسانوں کی آمدنی پر ٹیکس 66 فیصد کر دیا گیا جو مغل دور میں 40 فیصد تھا۔ روز مرہ استعمال کی عام اشیاء پر بھی ٹیکس عائد کیے گئے جن میں نمک بھی شامل تھا۔ اس سے نمک کی کھپت آدھی ہو گئی۔ نمک کم استعمال کرنے کی وجہ سے غریب لوگوں کی صحت سخت متاثر ہوئی اور ہیضے اور لو لگنے کی وجہ سے ہونے والی اموات میں بڑا اضافہ ہوا۔(ویکیپیڈیاآزاد دائرۃ المعارف)
ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک ڈائریکٹر ہنری جارج ٹکر نے 1823ء میں لکھا کہ اس طرح ہندوستان کو ایک صنعتی ملک کی حیثیت سے گرا کر ایک زراعتی ملک بنا دیا گیا ہے۔ (تاکہ انگلستان کا مال ہندوستان میں فروخت کیا جا سکے)(ویکیپیڈیاآزاد دائرۃ المعارف)
1857ء کی جنگ آزادی میں شکست کے بعد انگریزوں نے ہندوستانیوں کو بے دریغ قتل کیا۔ بے شمارگاؤں دیہات جلا دیے اورسارے دیہاتیوں کو پھانسی دے دی۔ اُس زمانے میں ہندوستان میں بینک نہیں ہوتے تھے اور امیر لوگ حفاظت کی خاطر اپنی دولت زمین میں دفن کر دیا کرتے تھے۔ انگریزوں نے امرا کی حویلیاں بارود سے اڑا دیں اور زمین کھدوا کر سارا سونا چاندی لوٹ لیا۔
اس طرح ایک پھلتا پھولتا ملک انگریزی شکاری کے پنجۂ استبداد میں چلا گیا جہاں ہرطرح کا ظلم و ستم روا تھا۔لیکن مظلوموں نے اس ظلم کے خلاف جد وجہہد کی ،اس وقت کے دانشوران قوم نے آزادی کا نعرہ لگایا اور سر پر کفن باندھ کر میدا ن میں اتر گئے اور انگریزوں کے خلاف محاذ کھول دیا ۔ اس راہ میں انہیں طرح طرح کی اذیتیں سہنی پڑی جان اور مال کو قربان کرنا پڑا لیکن آخر کار ان آزادی کے متوالوں کی محنت رنگ لائی اور 15 اگست 1947 کو انگریز اس دیش کو چھوڑ کر چلے گئے اور ہمارا ہندوستان آزاد ہوگیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *